اس قدر محبت ہے تم سے اے جاں
دل تو دے ہی چکے ہیں جاں بھی دے دیں گے
---------------------------------------
تڑپتے ہیں رات دن تیری ہی خاطر ہم
کیسے بیان کریں یہ حال دل تم سے
----------------------------------------
روتے ہیں کبھی، کبھی ہنستے ہیں بلا وجہ
لوگ کہتے ہیں پاگل پر ہم تو دیوانے ہیں ترے
-----------------------------------------
ہم محبت کی راہ پر چلے تو روکا تھا لوگوں نے
نہ جا اس جانب کہ یہ راہ رنج و الم ہے
شاید سچ ہی کہا تھا انہوں نے ہم سے
تبھی تو آج آنکھوں میں اشک اور ہاتھوں میں قلم ہے
-------------------------------------------
تجھے تو پرواہ نہیں اس دل مضطر کے اضطراب کی
پر اسے تو طلب ہے تیرے نینوں کی شراب کی
-------------------------------------------
یا بس اتنا ہو احسان ہم پر اے جان جاں
کر کچھ ایسا کہ تھم جاۓ یہ سانس اور نکل جاۓ جاں
-----------------------------------------------
شاید سچ ہی کہا تھا انہوں نے ہم سے
تبھی تو آج آنکھوں میں اشک اور ہاتھوں میں قلم ہے
-------------------------------------------
تجھے تو پرواہ نہیں اس دل مضطر کے اضطراب کی
پر اسے تو طلب ہے تیرے نینوں کی شراب کی
-------------------------------------------
یا بس اتنا ہو احسان ہم پر اے جان جاں
کر کچھ ایسا کہ تھم جاۓ یہ سانس اور نکل جاۓ جاں
-----------------------------------------------